Monday, 20 September 2021

ہوا کے ساتھ چلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

 ہوا کے ساتھ چلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

میں روشنی میں بسا ہوں مجھےچراغ نہ دے

چراغ بانٹنے والوں سے نسبتیں، لیکن

عیارِ شب پہ تلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

ہوائے ظلم کے طوفان کی لپیٹوں میں

فصیلِ شب پہ کھڑا ہوں مجھے چراغ نہ دے

یہ حسنِ محفلِ یاراں نہ میرے سامنے لا

گزشتہ رات جلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

حریمِ ذات کی پوشیدگی لیے ثاقب

میں تیرگی میں جلا ہوں مجھے چراغ نہ دے


عباس ثاقب

No comments:

Post a Comment