ہوا کے ساتھ چلا ہوں مجھے چراغ نہ دے
میں روشنی میں بسا ہوں مجھےچراغ نہ دے
چراغ بانٹنے والوں سے نسبتیں، لیکن
عیارِ شب پہ تلا ہوں مجھے چراغ نہ دے
ہوائے ظلم کے طوفان کی لپیٹوں میں
فصیلِ شب پہ کھڑا ہوں مجھے چراغ نہ دے
یہ حسنِ محفلِ یاراں نہ میرے سامنے لا
گزشتہ رات جلا ہوں مجھے چراغ نہ دے
حریمِ ذات کی پوشیدگی لیے ثاقب
میں تیرگی میں جلا ہوں مجھے چراغ نہ دے
عباس ثاقب
No comments:
Post a Comment