Sunday, 16 May 2021

وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کو

 وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کو

ویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کو

دین دھرم محفوظ ہیں لیکن تصویروں، جُزدانوں میں

وقت پڑے تو لے آتے ہیں مالا جپنے والوں کو

خوابوں کی بارش تو سارے زخم ہرے کر دیتی ہے

نیند کہاں سے آئے گی پھر بھیگے سپنے والوں کو

اخباروں کی سرخی بننا سب کے بس کی بات نہیں

اونچا مول چکانا پڑتا ہے روز کے چھپنے والوں کو

جانے کیسے ایسے ویسے آگے بڑھتے جاتے ہیں

پاس سے جا کر کس نے دیکھا بدر پنپنے والوں کو


بدر واسطی 

No comments:

Post a Comment