Wednesday, 14 April 2021

سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے

 وقت کے کٹہرے میں


سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے

اپنے جرم پہ

رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو

سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں

تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر

لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو

تم نے ہواؤں کے زینے پر

پاؤں رکھ کر

قوس قزح کے رنگ سمیٹے

اور خلاؤں میں اڑتے

فرضی تاروں سیاروں کی باتیں کیں

تم مجرم ہو اس ننھی کونپل کے جس نے

صبح کی پہلی شوخ کرن سے سرگوشی کی

تم مجرم ہو اس آنگن کے جس میں شاید

اب بھی تمہارے بچپن کی معصوم شرارت زندہ ہے

تم مجرم ہو تم نے اپنے پاؤں سے لپٹی مٹی کو

ایک اضافی چیز سمجھ کر جھاڑ دیا


بشر نواز

No comments:

Post a Comment