Wednesday, 14 April 2021

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے

 کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے


ذوق سخن کی دھوپ میں سیل ابر محبت جب آتا ہے

نامہ بر مہکے ہوئے خط کا روز لفافہ جب لاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے


میری یہ درخواست ہے تم ہر لمحہ ایسی سوچ سے ڈرنا

حضرتِ بل کی زیارت ہو یا ڈل کے کنارے باتیں کرنا

باہم جنت ارض کو جا کر ہر اک منظر نظر میں بھرنا

ایسی تمناؤں کا طوفاں جب مِرے دل سے ٹکراتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے


اپنے بے کل دل کی دہکتی کانگڑی کے انگارے لے کر

حرفوں کے آنچل میں بپھرے ہوئے جذبوں کے شرارے لے کر

وہ آکاش جو دامن میں چاہت کے جگمگ تارے لے کر

سوچ کی لمبی راتوں کو جب جھلمل جھلمل چمکاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے 


مجھ کو یہ تسلیم کہ یہ سب نفسانی تحریک نہیں ہے

مانا اس کا طرز تکلم اب وجہ تشکیک نہیں ہے

پھر بھی قلم کا اتنا شوخ اور چنچل ہونا ٹھیک نہیں ہے

دل سیدھے الفاظ کو بھی جب الٹے معنی پہناتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے 


ڈرتا ہوں اپنے چہرے پر وہ نہ مِری تصویر بنا لے

ایسا نہ ہو اپنے جذبوں کو پیروں کی زنجیر بنا لے

مجھ کو پاکستان سمجھ کر وہ خود کو کشمیر بنا لے

دل انہونے خدشوں کی اس دلدل میں جب دھنس جاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے


زیادہ پکنے والے میٹھے پھل شاخوں پر سڑ جاتے ہیں

ربط جو برسوں میں بنتے ہیں وہ لمحوں میں بگڑ جاتے ہیں

سچے جذبے رکھنے والے اکثر لوگ بچھڑ جاتے ہیں

ٹوٹے خوابوں کاہر لمحہ جب پیہم دل تڑپاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے 


حرفوں اور لفظوں کی ہر پل سجی ہوئی باراتیں ہونا

باعفت رشتوں کے قلم سے رنگ برنگی باتیں ہونا

پاکیزہ صفحوں پر چاہ کی رم جھم سی برساتیں ہونا

فکر ناز خشک ورق بھی جب جل تھل سا ہو جاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے 


تعریفوں کے تارے بھرنا میرے فن کی مانگ میں لا کر

دل کے آئینے میں بھائی بہن کی اک تصویر سجا کر

بے خود کر دیتا ہے بربط دل کے سارے تارے ہلا کر

یہی نہیں کچھ بلکہ وہ ظالم جب شاعر بھی بن جاتا ہے

کسے خبر ہے کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے


آلودہ افکار کی زنجیر سے اگر آزاد رہیں گے

مجھ کو بے حد چاہنے والے لوگ یونہی گر شاد رہیں گے

تو مرا وعدہ ہے وہ مجھ کو مرتے دم تک یاد رہیں گے

مجھ سا بے قیمت جب اتنا قیمتی عہد نبھا پاتا ہے

کسے خبر ہے، کون اور کس کو اور کتنا  یاد آتا ہے


تم ہی کہو کچھ میری بہن کیا تمہیں خبر ہے

پاکیزہ رشتوں کو آخر کس کا ڈر ہے 


سلیم ناز بریلوی

No comments:

Post a Comment