ربط ہر بزم سے ٹوٹے تیری محفل کے سوا
رنجشیں سب کی گوارا ہیں تیرے دل کے سوا
صرف آواز سے پہچان لیں ہم تو ان کو
یہ کھنک اور کہاں، لہجۂ قاتل کے سوا
ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو
چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے
کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا
خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن
کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل کے سوا
بشر نواز
No comments:
Post a Comment