Tuesday, 10 January 2017

ہر قدم پر نارسائی کا تماشا کیجئے

ہر قدم پر نارسائی کا تماشا کیجئے
کب تک آخر ایک پرچھائیں کا پیچھا کیجئے
پاس آتے ہیں بدل جاتے ہیں چہروں کے نقوش
دور سے ان چاند کے ٹکڑوں کو دیکھا کیجئے
مان کر چلیے کہ وہ ہے پارسا بھی نیک بھی
پارسائی کیا ہے، کیا نیکی نہ سوچا کیجئے
ڈھونڈ لیجے ان نگاہوں میں کوئی حرفِ وفا
ہاں سکوں کے واسطے خود سے بھی دھوکا کیجئے
بہتے پانی پر لکھی تحریر تھے وعدے سبھی
ہاتھ آئے گا نہ اب کچھ لاکھ ڈھونڈا کیجئے

بشر نواز

No comments:

Post a Comment