Sunday, 8 January 2017

پتہ نہیں وہ کون تھا

پتہ نہیں وہ کون تھا

پتہ نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ میں
موتیے کی ڈال، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا
پتہ نہیں وہ کون تھا
ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا
نظر کو رنگ، دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا
میں کون ہوں؟ گزرنے والا کون تھا؟

یہ پھول پنکھ کیا ہیں؟ کیوں ملے؟
یہ سوچتے ہی سوچتے، تمام رنگ ایک رنگ میں اتر گئے
سیاہ رنگ
تمام نکہتیں اِدھر اُدھر بکھر گئیں خلاؤں میں
یقین ہے، نہیں نہیں گمان ہے
وہ کوئی میرا دشمن ِ قدیم تھا
دکھا کے جو سراب میری پیاس اور بڑھا گیا
میں بے حساب آرزؤں کا شکار
انتہاۓ شوق میں فریب اس کا کھا گیا
گمان ہے، نہیں نہیں یقین ہے
وہ کوئی میرا دوست تھا، جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو
نظر کو رنگ، دل کو نکہتوں سے بھر گیا
پتہ نہیں کدھر گیا
میں اس کو ڈھونڈتا ہوا تمام کائنات میں
اِدھر اُدھر بکھر گیا

بشر نواز

No comments:

Post a Comment