Sunday, 8 January 2017

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو
اس دورِ بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو
کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ
زادِ سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو
ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا
مل بیٹھیں کس کے ساتھ، کوئی آشنا تو ہو
باقی ہے ایک درد کا رشتہ سو وہ بھی اب
کس سے نبھائیے،۔ کوئی درد آشنا تو ہو
سورج ہی جب نہ چمکے تو پگھلے گی برف کیا
بن جائیں وہ بھی موم مگر دل دُکھا تو ہو

بشر نواز

No comments:

Post a Comment