کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو
اس دورِ بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو
کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ
زادِ سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو
ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا
باقی ہے ایک درد کا رشتہ سو وہ بھی اب
کس سے نبھائیے،۔ کوئی درد آشنا تو ہو
سورج ہی جب نہ چمکے تو پگھلے گی برف کیا
بن جائیں وہ بھی موم مگر دل دُکھا تو ہو
بشر نواز
No comments:
Post a Comment