ان نگاہوں کا اگر ساتھ اجالا ہوتا
کچھ تو بے وجہ اداسی کا ازالہ ہوتا
چڑھ گئے حق کیلئے دار پہ ہم بھی لیکن
سوچتے ہیں کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا
اور کچھ روز تو دامن کو بچائے رکھتے
کچھ تو دیتا وہ ہمیں، زخم سہی، زہر سہی
آستینوں میں کوئی سانپ ہی پالا ہوتا
وادئ غم میں بڑی دور پہنچ کر سوچا
کاش کچھ پہلے ذرا خود کو سنبھالا ہوتا
بشر نواز
No comments:
Post a Comment