Sunday, 11 September 2022

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

 یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

محبت خون کا رشتہ نہیں ہے

جو میں نے کہہ دیا ہو کر رہے گا

مِرا مشرب غمِ فردا نہیں ہے

بہت پہلے میں اس کو پڑھ چکا ہوں

میری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے

گھٹا رہتا ہے دل میں کچھ دُھواں سا

یہ بادل آج تک برسا نہیں ہے

جوانی، جتنے منہ اتنی ہی باتیں

محبت آج بھی رُسوا نہیں ہے

وفا میں راحتیں کیا ڈھونڈتے ہو

وفا دیوار ہے، سایہ نہیں ہے

یہ بات اہلِ نظر کب جانتے ہیں

اکیلا تو ہے دل، تنہا نہیں ہے

سہی اپنے نہ بن پائے کسی کے

کوئی اپنا نہ ہو ایسا نہیں ہے

مزاجِ یار سے نالاں ہو انجم

تمہیں شاید غزل کہنا نہیں ہے


انجم فوقی بدایونی

No comments:

Post a Comment