Tuesday, 6 April 2021

کہ کھوئے سکے یہیں ملیں گے میں اپنی جیبیں ٹٹولتا ہوں

 کہ کھوئے سکے یہیں ملیں گے میں اپنی جیبیں ٹٹولتا ہوں

تُو جا چکا ہے مگر میں پھر بھی تجھے پکارے ہی جا رہا ہوں

یہ ساری الفت، یہ ساری چاہت، تمام لوگوں میں بانٹ دو گی

ہمارے حصے میں آیا بھی تو فریب آئے گا جانتا ہوں

اگر میں لفظوں کا جال پھینکوں تو قید کر لوں ہزار لڑکی

مگر ہمارے بھی گھر میں بہنیں ہیں خود کو قابو میں رکھ رہا ہوں

یہ شاعری کے اصول کیا ہیں، عروض کیا ہیں، پتہ نہیں ہے

میں اپنے زخموں کو سی رہا رہوں، سو قافیوں کو ملا رہا ہوں


عثمان نیاز

No comments:

Post a Comment