Tuesday, 6 April 2021

جدا ہو کر سمندر سے کنارا کیا بنے گا

 جدا ہو کر سمندر سے کنارا کیا بنے گا

نہیں سوچا ہے اب تک وہ ہمارا کیا بنے گا

مجھے یہ ایک عرصہ سے زمیں سمجھا رہی ہے

فلک سے ٹوٹ کر میرا ستارا کیا بنے گا

میں ایسا لفظ ہوں جس کا کوئی مطلب نہیں ہے

خدا ہی جانے میرا استعارا کیا بنے گا

مصور اس لیے تم کو بنانا چاہتا ہے

اسے معلوم ہے تم بِن نظارا کیا بنے گا

ہوا سے دوستی کر لی ہے میرے ناخدا نے

مِری کشتی کا دریا میں سہارا کیا بنے گا

تمہارا فیصلہ منظور ہے،۔ لیکن بتاؤ

بچھڑ کے مجھ سے مستقبل تمہارا کیا بنے گا

خدائے بحر و بر تُو نے جو پھر دنیا بنائی

ہماری خاک سے اس میں دوبارا کیا بنے گا


انعام عازمی

No comments:

Post a Comment