دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے
ایسے ہی نہیں سوز طرب سے نکلا ہے
عدو سامنے ہے، یہ گُتھی سلجھاؤ یارو
کہ خنجر کیسے مِرے عقب سے نکلا ہے
تم اس لیے بھی ہو اہم مِرے لیے کیونکہ
تیرا نام ہی میری ہر طلب سے نکلا ہے
عشق شامل ہے میرے خون میں وسیم
عشق میرے شجرۂ نسب سے نکلا ہے
وسیم ارشد
No comments:
Post a Comment