Tuesday, 6 April 2021

دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے

 دکھ سینے سے بڑے کرب سے نکلا ہے

ایسے ہی نہیں سوز طرب سے نکلا ہے

عدو سامنے ہے، یہ گُتھی سلجھاؤ یارو

کہ خنجر کیسے مِرے عقب سے نکلا ہے

تم اس لیے بھی ہو اہم مِرے لیے کیونکہ

تیرا نام ہی میری ہر طلب سے نکلا ہے

عشق شامل ہے میرے خون میں وسیم

عشق میرے شجرۂ نسب سے نکلا ہے


وسیم ارشد

No comments:

Post a Comment