Saturday, 3 April 2021

لے چلے ہو تو کہیں دور ہی لے جانا مجھے

 لے چلے ہو تو کہیں دُور ہی لے جانا مجھے

مت کسی بِسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے

میں تو اس میں بھی بہت خوش ہوں تِرا نام تو ہے

ایک جُرعہ بھی تِرے نام کا مے خانہ مجھے

آج دانستہ تغافل سے ہوں ہارا ہوا میں

کل تلک عمر کی سچائی تھی افسانہ مجھے

تُو نے بھی مان لیا لوگوں کا پھیلایا سچ

تُو نے بھی جاتے ہوئے لوٹ کے دیکھا نہ مجھے

علم کے طور پہ سیکھے ہیں محبت کے رموز

تم بِنا سوچے ہی کہہ جاتے ہو دیوانہ مجھے

آ، مِری جان کے دُشمن! تِری تادیب کروں

تیرا ہر وار لگا غیر دلیرانہ مجھے

اب مجھے تُو ہی بتا دونوں میں کیوں تجھ کو چُنوں

تُو نے رکھا نہ مجھے، درد نے چھوڑا نہ مجھے


اکرام اعظم

No comments:

Post a Comment