اسے یہ کون سمجھائے
اسے یہ کون سمجھائے
وہ دشت خامشی میں
اُنگلیوں میں سیپیاں پہنے
کسی سُوکھے سمندر کی
ادھوری پیاس کی باتیں
بہت چُپ چاپ سنتا ہے
بہت خاموش رہتا ہے
اسے یہ کون سمجھائے
خوشی کے ایک آنسو سے
سمندر بھر بھی جاتے ہیں
بہت خاموش رہنے سے
تعلق مر بھی جاتے ہیں
علی عدنان
No comments:
Post a Comment