Saturday, 3 April 2021

اسے یہ کون سمجھائے

 اسے یہ کون سمجھائے


اسے یہ کون سمجھائے

وہ دشت خامشی میں

اُنگلیوں میں سیپیاں پہنے

کسی سُوکھے سمندر کی

ادھوری پیاس کی باتیں

بہت چُپ چاپ سنتا ہے

بہت خاموش رہتا ہے

اسے یہ کون سمجھائے

خوشی کے ایک آنسو سے

سمندر بھر بھی جاتے ہیں

بہت خاموش رہنے سے

تعلق مر بھی جاتے ہیں


علی عدنان

No comments:

Post a Comment