وہ دیکھو کچھ خواب پڑے ہیں
ملنے کے تھے
کِھلنے کے تھے
دیکھو کیسے ٹُوٹے پڑے ہیں
اور وہ دیکھو اک آس پڑی ہے
پریت کی تھی
مِیت کی تھی
جیسے بالکل مر سی گئی ہے
ہاں! کچھ یادیں بھی ہیں
پیار بھری تھیں
بہت ہری تھیں
سُوکھ کے کانٹا ہو گئی ہیں
اور وہ دیکھو
ارے اس کونے میں
دو آنکھیں ہیں ناں
بہت حسیں ہیں
مگر غمگیں ہیں
اٹھتی تھیں پھر جھکتی تھیں
جیسے کوئی راہ تکتی تھیں
ارے غور سے دیکھو ناں ان کو
بالکل ساکن ہو گئی ہیں
بالکل پتھر ہو گئی ہیں
اقراء طاہر
No comments:
Post a Comment