ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کرو گے
ہمارے ساتھ تم ایسا کرو گے
انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہو
انگوٹھی کے نشاں کا کیا کرو گے؟
میں تم سے اب جھگڑتا بھی نہیں ہوں
تو کیا اس بات پر جھگڑا کرو گے؟
مِرا دامن تم ہی تھامے ہوئے ہو
مِرا دامن تم ہی میلا کرو گے
بتاؤ، وعدہ کر کے آؤ گے ناں؟
کہ پچھلی بار کے جیسا کرو گے
وہ دلہن بن کے رخصت ہو گئی ہے
کہاں تک کار کا پیچھا کرو گے؟
مجھے بس یونہی تم سے پوچھنا تھا
اگر میں مر گیا تو کیا کرو گے؟
زبیر تابش
No comments:
Post a Comment