Saturday, 3 April 2021

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کرو گے

 ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کرو گے

ہمارے ساتھ تم ایسا کرو گے

انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہو

انگوٹھی کے نشاں کا کیا کرو گے؟

میں تم سے اب جھگڑتا بھی نہیں ہوں

تو کیا اس بات پر جھگڑا کرو گے؟

مِرا دامن تم ہی تھامے ہوئے ہو

مِرا دامن تم ہی میلا کرو گے

بتاؤ، وعدہ کر کے آؤ گے ناں؟

کہ پچھلی بار کے جیسا کرو گے

وہ دلہن بن کے رخصت ہو گئی ہے

کہاں تک کار کا پیچھا کرو گے؟

مجھے بس یونہی تم سے پوچھنا تھا

اگر میں مر گیا تو کیا کرو گے؟


زبیر تابش

No comments:

Post a Comment