Friday, 12 August 2022

یہ کیا کہ درد کو ہی روح میں بسا لیجیے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ کیا کہ درد کو ہی روح میں بسا لیجیے

ملے مدینے کی خاکِ شفا تو کھا لیجیے

حضورؐ میں بھی ہنر ور ہوں، شعر کہتا ہوں 

حضورؐ مجھ سے بھی اک نعت کہلوا لیجیے

فرشتے دوڑ کے آئیں گے ہمنوائی کو 

بس ایک بار ذرا نعت گنگنا لیجیے

مدینے جانے سے پہلے اے زائرینِ کرام

دلوں کو دھیرے دھڑکنے کا فن سکھا لیجیے

مجھے نگاہوں سے ابلاغ کی سہولت ہے 

یہ مجھ سے لفظوں کی پابندیاں اٹھالیجیے

مجھے سوال نہیں آتے، نعت آتی ہے 

بس آپ جو بھی نکیرین! فیصلہ لیجیے

یہاں بلال کے پاؤں لگے تھے، چھو لیجیے 

جبیں پہ داغ جو کالے ہیں، جگمگا لیجیے

یقینِ عشقِ نبیؐ دل میں رہنے آتا ہے 

اے وہم ہائے شب و روز راستہ لیجیے  

قمر نے ڈوبتے سورج کو یوں کہا اک دن

پلٹ کے جائیے، انگلی کا نور پا لیجیے 

میں ان کے اسم کو پلکوں سے چھو کے اعظم ہوں

اگر یقین نہیں ہے تو آزما لیجیے 


اکرام اعظم

No comments:

Post a Comment