Friday, 11 March 2022

طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

 طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

مجھ میں چھپا ہوا مِرے اندر کا خوف ہے

امید جس سے زندہ تھی وہ فصل جل گئی

جو رہن رکھ چکا ہوں اسی گھر کا خوف ہے

میرے بدن میں جس سے دراڑیں سی پڑ گئیں

آنکھوں میں آج بھی اسی منظر کا خوف ہے

🔘آواز دائروں میں مقید سی ہو گئی🔘

ہر اک صدا کو گنبد بے در کا خوف ہے

میں بھی اسی قبیلے کا اک فرد ہوں نذیر

دستار سے زیادہ جسے سر کا خوف ہے


نذیر تبسم

No comments:

Post a Comment