دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے
قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آ جائے
میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اسے
وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آ جائے
ساحل پہ کھڑی مدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے
میرے حصے کے اس سیپ میں موتی آ جائے
میری محبت کی لگائی قیمت اس دلِ بے رحم نے
کاش مجھے پھر بھی اس کے ہر ستم پہ پیار آجائے
مریم عرفان
No comments:
Post a Comment