Friday, 11 March 2022

دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے

 دل کی بات گر میری زبان پر آ جائے

قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آ جائے

میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اسے

وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آ جائے

ساحل پہ کھڑی مدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے

میرے حصے کے اس سیپ میں موتی آ جائے

میری محبت کی لگائی قیمت اس دلِ بے رحم نے

کاش مجھے پھر بھی اس کے ہر ستم پہ پیار آجائے


مریم عرفان

No comments:

Post a Comment