Friday, 11 March 2022

کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے

 کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کے

طعنے سہنے پڑے ہمیں سب کے

بھولنا مت بتوں کی یاری پر

ہیں یہ بد کیش اپنے مطلب کے

قیس و فرہاد چل بسے افسوس

تھے وہ کمبخت اپنے مشرب کے

شیخیاں شیخ جی کی دیں گے دکھا

مل گئے وہ اگر کہیں اب کے

یاد رکھنا کبھی نہ بچئے گا

مل گئے آپ وقت گر شب کے

اس میں خوش ہوویں آپ یا ناخوش

یار تو ہیں سنا اسی ڈھب کے

یار بن عیش مے کشی توبہ

ہے یہ اپنے خلاف مذہب کے


عیش دہلوی

No comments:

Post a Comment