Friday, 14 January 2022

اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے

 اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے

پوچھتا ہے دل مجھ سے کس طرف کو جانا ہے

میرے گھر وہ آئے گا آج گھر سجانا ہے

اس طرف کی چیزوں کو اس طرف لگانا ہے

نقش ہائے رنگیں کا اک نگار خانہ ہے

زندگی حقیقت ہے، زندگی فسانہ ہے

جذبۂ جنون عشق گو بہت پرانا ہے

پھر بھی تازہ تر ہے یہ پھر بھی والہانہ ہے

پائیں گے خوشی بھی ہم رنج و غم بھی جھیلیں گے

اس جہان میں جب تک اپنا آب و دانہ ہے

دشمنوں کے طعنے ہیں دوستوں کی تنقیدیں

تیر سیکڑوں ہیں اور ایک دل نشانہ ہے

آتشیں ہے لہجہ بھی گفتگو بھی بارودی

سوچیے شفیق اس سے کس طرح نبھانا ہے


شفیق احمد

No comments:

Post a Comment