Wednesday, 12 January 2022

لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں

 لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں 

ہم مگر تیرے اشاروں کی طرف دیکھتے ہیں

تیری جانب جو نظر ہے تو تعجب کیسا 

ڈوبنے والے کناروں کی طرف دیکھتے ہیں

اپنی پہچان بنانے کے ہیں اپنے انداز 

خار چھبتے ہیں تو خاروں کی طرف دیکھتے ہیں

کون سی روشنی چہرے پہ مَلی ہوتی ہے 

کیوں سبھی ہجر کے ماروں کی طرف دیکھتے ہیں 

گامزن ہیں نئے رَستوں پہ پرانے راہی

نہ پلٹتے ہیں نہ یاروں کی طرف دیکھتے ہیں


رخسانہ سحر

No comments:

Post a Comment