لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں
ہم مگر تیرے اشاروں کی طرف دیکھتے ہیں
تیری جانب جو نظر ہے تو تعجب کیسا
ڈوبنے والے کناروں کی طرف دیکھتے ہیں
اپنی پہچان بنانے کے ہیں اپنے انداز
خار چھبتے ہیں تو خاروں کی طرف دیکھتے ہیں
کون سی روشنی چہرے پہ مَلی ہوتی ہے
کیوں سبھی ہجر کے ماروں کی طرف دیکھتے ہیں
گامزن ہیں نئے رَستوں پہ پرانے راہی
نہ پلٹتے ہیں نہ یاروں کی طرف دیکھتے ہیں
رخسانہ سحر
No comments:
Post a Comment