Wednesday, 12 January 2022

تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی

 تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی

وہ ایک شام، تِرے ساتھ جو گزاری تھی

افق پہ لکھتا رہا آفتاب تحریریں

مگر بیاضِ زمیں روشنی سے عاری تھی

سفیرِ صبح کی آہٹ پہ ہو گئی بیدار

غنودگی میں جو خوابیدہ شب خماری تھی

اسی نے کر دیا پیوست پیٹھ میں خنجر

وہ شخص جس کی رفاقت سے پیٹھ بھاری تھی

دل و دماغ نے پھر حاشیے تراش لیے

کئی دنوں سے طبیعت میں ناگواری تھی

جو بات ترکِ تعلق کے موڑ تک پہنچی

خطا تمہاری نہیں تھی، خطا ہماری تھی

جواب دے دئیے سالم! حیات نے مجھ کو

مگر سوالیہ اک اک جوابداری تھی


سالم شجاع انصاری

No comments:

Post a Comment