یہ چپ چاپ اندر سے سب
جہاں آگ بجھنے کو ہو کیوں وہاں اتنے سارے
دہکتے ہوئے رنگ اور پر حرارت شبیہیں
اندھیرے میں تحلیل ہونے سے پہلے مِرے دائیں بائیں
پر و بال پھیلائے، ساکت، معلق
کسی گنگ اور دائمی شام کے دل میں
ان دھوپ اور جھاگ جیسے ارادوں کی تلچھٹ
کوئی جن کے اسرار کی بھی نہ دے گا گواہی
نہ آنکھیں، نہ یادیں، نہ نشوں کے کڑوے کرشمے نہ ٹھنڈی سلاخیں
نہ تاروں کی پرچھائیوں سے بھرے طاقچے اور گملے
اکیلے دکیلے کا اب رات کی رات اللہ بیلی
سلیم الرحمٰن
No comments:
Post a Comment