لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہیۓ
کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہیۓ
چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن
کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہیۓ
جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں
وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہیۓ
آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو
صحنِ گلشن نہیں،۔ جلتا ہوا صحرا کہیۓ
سب کے چہروں پہ ہیں اخلاق و مروت کے نقاب
کس کو اپنا یہاں، اور کس کو پرایا کہیۓ
شب کے ماتھے پہ کوئی سایہ نمودار ہوا
اس کو اب پیار کے آنگن کا سویرا کہیۓ
زہرِ تنہائیِ غم پی کے محبت میں خیال
کس طرح موت کو جینے کا سہارا کہیۓ
فیض الحسن خیال
No comments:
Post a Comment