Wednesday, 12 January 2022

لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہیے

 لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہیۓ

کیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہیۓ

چہرے پڑھنا تو سبھی سیکھ گئے ہیں لیکن

کیسی تہذیب ہے اپنوں کو پرایا کہیۓ

جانے پہچانے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں

وقت قاتل ہے یہاں کس کو مسیحا کہیۓ

آپ جس پیڑ کے سائے میں کھڑے ہیں اس کو

صحنِ گلشن نہیں،۔ جلتا ہوا صحرا کہیۓ

سب کے چہروں پہ ہیں اخلاق‌ و مروت کے نقاب

کس کو اپنا یہاں، اور کس کو پرایا کہیۓ

شب کے ماتھے پہ کوئی سایہ نمودار ہوا

اس کو اب پیار کے آنگن کا سویرا کہیۓ

زہرِ تنہائیِ غم پی کے محبت میں خیال

کس طرح موت کو جینے کا سہارا کہیۓ


فیض الحسن خیال

No comments:

Post a Comment