ہم اسی واسطے باہر نہیں دیکھے جاتے
چشمِ پُر نم سے مناظر نہیں دیکھے جاتے
دل نوازوں کے لیے اور ہیں آنکھیں درکار
عام نظروں سے یہ ساحر نہیں دیکھے جاتے
ایسی پُر خوف فضا ہے کہ خدا بخشے بس
اب کسی پیڑ پہ طائر نہیں دیکھے جاتے
پہلے پہلے تو نظر بھرتی نہیں تک تک کے
پھر حسیں لوگ بھی آخر نہیں دیکھے جاتے
یاں تو یکتائی کے پیرو ہی نظر آتے ہیں
عشق کے کوچے میں کافر نہیں دیکھے جاتے
میر اور جون کے اشعار پڑھے ہیں جب سے
مجھ سے یہ شوخ سے شاعر نہیں دیکھے جاتے
ماہم حیا صفدر
No comments:
Post a Comment