جس بات کا کہا جب دل نے جناب لکھ دی
کچھ بھی نہیں چھپایا بھولِ شباب لکھ دی
یہ بھی عجیب ہے کل سے وہ ہیں محو خود میں
ان کی ہی آنکھ حد کی ہم نے شراب لکھ دی
یاں واں کے سب سوالوں کو بھانپ ہی لیا تھا
خواہش تو ان کی کی پھر طورِ جواب لکھ دی
ہم سے ہی سیکھیۓ آ کر عظمتِ تعلق
اک سال کے تعلق پر اک کتاب لکھ دی
توبہ نکمے ہم بس جارح خیال کے ہیں
جب صبحِ ست لکھی تو شامِ سراب لکھ دی
اعجاز کشمیری
No comments:
Post a Comment