Friday, 14 January 2022

یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے

 یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے

اداس آنکھوں کی چلمنوں پر وفا کے موتی فضول ٹھہرے

وصال لمحوں کے منتظر ہیں رکے ہوئے یہ تمام منظر

کبھی جو آؤ تو درد ٹھہرے یہ آنسوؤں کا نزول ٹھہرے

سنا ہے اس نے رقیبِ دل کو مری وفا کی مثال دی ہے

اگر یہ سچ ہے یقین مانو مجھے یہ سب دکھ قبول ٹھہرے

گُلوں کے عادی ہیں لوگ سارے یہ سرخ قالیں پہ چلنے والے

عبث نہ آئیں ہماری جانب کہ راستوں میں ببول ٹھہرے

سکھا نہ مجھ کو اے میرے واعظ عقیدتوں کے سلیقے اپنے

میں جس کو چاہوں میں جیسے چاہوں یہ میرے اپنے اصول ٹھہرے

اچھالا جس نے بھی مجھ پہ کیچڑ، کیا ہے جس نے بھی مجھ کو رسوا

مِری دعا ہے مسرت اس پر، نہ دھوپ برسے نہ دھول ٹھہرے


مسرت عباس ندرالوی

No comments:

Post a Comment