یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے
اداس آنکھوں کی چلمنوں پر وفا کے موتی فضول ٹھہرے
وصال لمحوں کے منتظر ہیں رکے ہوئے یہ تمام منظر
کبھی جو آؤ تو درد ٹھہرے یہ آنسوؤں کا نزول ٹھہرے
سنا ہے اس نے رقیبِ دل کو مری وفا کی مثال دی ہے
اگر یہ سچ ہے یقین مانو مجھے یہ سب دکھ قبول ٹھہرے
گُلوں کے عادی ہیں لوگ سارے یہ سرخ قالیں پہ چلنے والے
عبث نہ آئیں ہماری جانب کہ راستوں میں ببول ٹھہرے
سکھا نہ مجھ کو اے میرے واعظ عقیدتوں کے سلیقے اپنے
میں جس کو چاہوں میں جیسے چاہوں یہ میرے اپنے اصول ٹھہرے
اچھالا جس نے بھی مجھ پہ کیچڑ، کیا ہے جس نے بھی مجھ کو رسوا
مِری دعا ہے مسرت اس پر، نہ دھوپ برسے نہ دھول ٹھہرے
مسرت عباس ندرالوی
No comments:
Post a Comment