میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو
میں بھی ہوں مشکل میں سر دار انا تم بھی ہو
میری کوشش ہے کہ میں کچھ بھی نہ اظہار کروں
مجھ کو معلوم گرفتار انا تم بھی ہو
مجھ کو یہ خبط ترا درد چھپائے رکھوں
مجھ کو یہ علم کہ بیمار انا تم بھی ہو
مجھ کو بھی کرب مسلسل کے سوا کچھ نہ ملا
اور آزردہ خطا وار انا تم بھی ہو
اب گریزاں ہے ہر اک سوچ سے یہ ذہن مرا
اجنبی خوف سے بیزار انا تم بھی ہو
اب ہے پندار جنوں میرا مائل بہ زوال
دل ہی دل میں کہیں انکار انا تم بھی ہو
شفیق احمد
No comments:
Post a Comment