Sunday, 16 January 2022

میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو

 میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو

میں بھی ہوں مشکل میں سر دار انا تم بھی ہو

میری کوشش ہے کہ میں کچھ بھی نہ اظہار کروں

مجھ کو معلوم گرفتار انا تم بھی ہو

مجھ کو یہ خبط ترا درد چھپائے رکھوں

مجھ کو یہ علم کہ بیمار انا تم بھی ہو

مجھ کو بھی کرب مسلسل کے سوا کچھ نہ ملا

اور آزردہ خطا وار انا تم بھی ہو

اب گریزاں ہے ہر اک سوچ سے یہ ذہن مرا

اجنبی خوف سے بیزار انا تم بھی ہو

اب ہے پندار جنوں میرا مائل بہ زوال

دل ہی دل میں کہیں انکار انا تم بھی ہو


شفیق احمد

No comments:

Post a Comment