Sunday, 16 January 2022

پیڑ تعبیر کے ہرے ہوتے

 پیڑ تعبیر کے ہرے ہوتے

میرے گر خواب نا بکے ہوتے

کاش ہم ایک ہی محلے میں

مل کے اک ساتھ ہی بڑے ہوتے

پھر بھی کچھ آسرا تو ہو جاتا

ساتھ کھوٹوں کے گر کھرے ہوتے

ہم کبھی راستہ بھٹکتے نہیں

دیپ راہوں میں گر جلے ہوتے

دشت سے یوں نہ واسطہ پڑتا

ہم اگر عشق سے پرے ہوتے

دھوپ سے دوستی اگر ہوتی

میرے گھر کے شجر ہرے ہوتے

میں تو آواز دے رہی تھی تمہیں

دو گھڑی کاش تم رکے ہوتے


ثمینہ ثاقب

No comments:

Post a Comment