جس کو دیکھو بے وفا ہے آئینوں کے شہر میں
پتھروں سے واسطہ ہے آئینوں کے شہر میں
روز حرفِ آرزو پر ٹوٹتے رہتے ہیں دل
روز عرضِ مدعا ہے آئینوں کے شہر میں
قہقہے لگتے ہیں آوازِ شکستِ دل کے ساتھ
کب کوئی درد آشنا ہے آئینوں کے شہر میں
حسن والو! کس لیے اعجاز سے یہ اجتناب
اک وہی تو پارسا ہے آئینوں کے شہر میں
اعجاز وارثی
No comments:
Post a Comment