Sunday, 16 January 2022

جس کو دیکھو بے وفا ہے آئنوں کے شہر میں

 جس کو دیکھو بے وفا ہے آئینوں کے شہر میں

پتھروں سے واسطہ ہے آئینوں کے شہر میں

روز حرفِ آرزو پر ٹوٹتے رہتے ہیں دل

روز عرضِ مدعا ہے آئینوں کے شہر میں

قہقہے لگتے ہیں آوازِ شکستِ دل کے ساتھ

کب کوئی درد آشنا ہے آئینوں کے شہر میں

حسن والو! کس لیے اعجاز سے یہ اجتناب

اک وہی تو پارسا ہے آئینوں کے شہر میں


اعجاز وارثی

No comments:

Post a Comment