گو کہ لوگوں کے ہیں سہارے لوگ
کام آئے نہیں ہمارے لوگ
خوبصورت بہت ہی پیارے لوگ
کیسے کیسے انا میں ہارے لوگ
بس تعلق نبھاتے رہتے ہیں
جیتے کب ہیں وفا کے مارے لوگ
ایک عاشق نے چاند اتار لیا
تارے گنتے رہے بچارے لوگ
اس کی آنکھوں نے علم بانٹا ہے
کب سمجھتے تھے استعارے لوگ
راہِ الفت کی مشکلیں سن کر
الحفیظ الاماں پکارے لوگ
عشق کے ہاتھ اب نہیں لگتے
یوں برے وقت نے سدھارے لوگ
شہزاد احمد شاذ
No comments:
Post a Comment