Sunday, 16 January 2022

گو کہ لوگوں کے ہیں سہارے لوگ

 گو کہ لوگوں کے ہیں سہارے لوگ

کام آئے نہیں ہمارے لوگ

خوبصورت بہت ہی پیارے لوگ

کیسے کیسے انا میں ہارے لوگ

بس تعلق نبھاتے رہتے ہیں

جیتے کب ہیں وفا کے مارے لوگ

ایک عاشق نے چاند اتار لیا

تارے گنتے رہے بچارے لوگ

اس کی آنکھوں نے علم بانٹا ہے

کب سمجھتے تھے استعارے لوگ

راہِ الفت کی مشکلیں سن کر

الحفیظ الاماں پکارے لوگ

عشق کے ہاتھ اب نہیں لگتے

یوں برے وقت نے سدھارے لوگ


شہزاد احمد شاذ

No comments:

Post a Comment