Sunday, 16 January 2022

ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے

 ہمیں ہر سانس دشواری لگے ہے

مگر یہ زندگی پیاری لگے ہے

تمہیں دھوکا سحر کا ہے تو ہو گا

ہمیں تو رات اندھیاری لگے ہے

مِرے ملبوس پر چھینٹے لہو کے

تِرے دامن کی گلکاری لگے ہے

زباں شاید یہی شرفا کی ٹھہرے

تمہیں جو آج بازاری لگے ہے

وفا کیا ہے یہ تم اس دل سے پوچھو

کہ جس دل کو یہ بیماری لگے ہے

مِرے قاتل کو یا رب حوصلہ دے

مجھے کاندھوں پہ سر بھاری لگے ہے

غزل اسرار ہوتی ہے مکمل

کہ دل پر چوٹ جب کاری لگے ہے


اسرارالحق

No comments:

Post a Comment