Sunday, 16 January 2022

میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صدائیں بولتی ہیں

 میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صدائیں بولتی ہیں

ابھی تو بے جان کلیاں بوسیدہ مہک رولتی ہیں

ابھی تو امید کی فاختہ بھی بے گھر ہو کر

کسی ویرانے کا رخ کرنے کو پر تولتی ہے

ابھی تو زنگ آلود ہے میرے باطن کا جہاں

اب گفتار میں بھی وہ پہلے سی لذت ہے کہاں

ابھی بے نور سی پھرتی ہے کوئی رات جواں

ابھی دہلیز پر منتظر ہے کوئی ربط رواں

ابھی تو اشکوں کی جھڑی کا ہے برساتی سماں

ابھی تو زندانوں میں مقید ہیں میرے سارے جنوں

ابھی تو محبت کی چتا، نینوں میں سیاہی گھولتی ہے

ابھی تو سرابوں کے دریا میں میرے یقین کی آس

کسی ٹوٹی ہوئی نیّا🛥 کی طرح ڈولتی ہے

ابھی تو دست بھی پھیلے ہوئے سائل سے میرے

ابھی اپنوں کے توسط سے ہے چاک گریباں

ابھی تو دل ہے کہ سننے کو بھی قائل نہ ہو

ابھی تو عشق بھی ساقی کے خالی جام نماں


رابعہ بگٹی

No comments:

Post a Comment