میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صدائیں بولتی ہیں
ابھی تو بے جان کلیاں بوسیدہ مہک رولتی ہیں
ابھی تو امید کی فاختہ بھی بے گھر ہو کر
کسی ویرانے کا رخ کرنے کو پر تولتی ہے
ابھی تو زنگ آلود ہے میرے باطن کا جہاں
اب گفتار میں بھی وہ پہلے سی لذت ہے کہاں
ابھی بے نور سی پھرتی ہے کوئی رات جواں
ابھی دہلیز پر منتظر ہے کوئی ربط رواں
ابھی تو اشکوں کی جھڑی کا ہے برساتی سماں
ابھی تو زندانوں میں مقید ہیں میرے سارے جنوں
ابھی تو محبت کی چتا، نینوں میں سیاہی گھولتی ہے
ابھی تو سرابوں کے دریا میں میرے یقین کی آس
کسی ٹوٹی ہوئی نیّا🛥 کی طرح ڈولتی ہے
ابھی تو دست بھی پھیلے ہوئے سائل سے میرے
ابھی اپنوں کے توسط سے ہے چاک گریباں
ابھی تو دل ہے کہ سننے کو بھی قائل نہ ہو
ابھی تو عشق بھی ساقی کے خالی جام نماں
رابعہ بگٹی
No comments:
Post a Comment