میں نے دنیا میں بہت ظلم کو بڑھتے دیکھا
مسندِ عدل پہ منصف کو جو بِکتے دیکھا
حاکمِ وقت کی غفلت کے نتیجے میں بسا
ظلم کے ہاتھ سے پھولوں کو مسلتے دیکھا
جس گھڑی ظلم و جنایت پہ اتر آیا بشر
میں نے انسان کو انسان سے ڈرتے دیکھا
منصفوں نے کیا جب عدل کو نیلام، اس دم
میں نے دل کھول کے شیطان کو ہنستے دیکھا
دل پہ تاثیرِ نصیحت نہ ہوئی واعظ کی
اپنی باتوں پہ عمل سے جو مُکرتے دیکھا
میرے اوسان خطا ہو گئے اکثر حیدر
جب کبھی عدل کو انصاف کو بِکتے دیکھا
جواد حیدر
No comments:
Post a Comment