سب کے چہروں پہ جب خوشی ہو گی
کیا دنیش! ایسی صبح بھی ہو گی؟
لوگ نکلے ہیں جو یہ شمع لیے
نربھیا پھر کوئی لُٹی ہو گی
سرد موسم میں بے گھروں کی دِشا
بے بسی خود بھی رو رہی ہو گی
کیا کبھی انقلاب آئے گا؟
ان اندھیروں میں روشنی ہو گی
سب کے ہونٹوں پہ یہ سوال ہے اب
کب سیاست کو ہتھکڑی ہو گی؟
ابر برسے گا ٹوٹ کر جس دن
دُور دھرتی کی تشنگی ہو گی
اٹھ کے ظالم کو دے جواب دنیش
ظلم سہنا تو بزدلی ہو گی
دنیش کمار
No comments:
Post a Comment