Sunday, 16 January 2022

کچھ تو حاصل ہو گیا عرفان میخانہ مجھے

 کچھ تو حاصل ہو گیا عرفان مےخانہ مجھے

آج پیمانے کو میں تکتا ہوں پیمانہ مجھے

دار پر نغموں کا چھا جانا کوئی آساں نہیں

ساز کیا کم تھا جو بخشا سوز پروانہ مجھے

جوڑ ڈالے کتنے ساغر کتنے مینا کتنے دل

اک ذرا جو مل گئی تھی خاک مے خانہ مجھے

زندگی اپنی حقیقت ہی حقیقت تھی مگر

آج دنیا نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھے

رشتۂ دیرینۂ وحشت نہ ٹوٹا آج تک

یاد ویرانے کو میں کرتا ہوں ویرانہ مجھے

صبح کعبہ شام بتخانہ کی ہے مجھ کو تلاش

ڈھونڈھتی ہے صبح کعبہ، شام بتخانہ مجھے


رضا جونپوری

No comments:

Post a Comment