تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے
کہیں تُلسی نہیں، چندن نہیں ہے
کلب میں ملتے ہیں رادھا، کنہیا
کہ جمنا تٹ نہیں مدھوبن نہیں ہے
یہاں ہر اور آتش ہے، دھواں ہے
کہیں بھی آج کل ساون نہیں ہے
امیری کا بدن سونے سے پیلا
غریبی کے لیے اُترن نہیں ہے
وہ دیکھیں کس طرح دل کی سیاہی
کہ ان کے پاس اب درپن نہیں ہے
غوث سیوانی
No comments:
Post a Comment