کہیں گُم ہوا تیری کھوج میں
میں گِرہ میں باندھ کے حادثات، نکل پڑا تیری کھوج میں
کہیں تارکول کی تھی سڑک، جہاں آگ بانٹتی دھوپ تھی
کبھی کچی راہ کی دھول میں جہاں سانس لینا محال تھا
سرِ رزمِ جاں کبھی دل کے درد سے ہار کر
میں تو خانقاہوں پہ مانگتا پھِرا منتیں
کبھی رات رات بسر دعاؤں میں ہو گئی
کبھی قافلے مِری آس کے کسی دشتِ یاس میں کھو گئے
میرا پیرہن تھا پھٹا ہوا کہیں گرد گرد اٹا ہوا
میں ادھورے پن کے سراب میں
تجھے ڈھونڈتا پھِرا در بدر
کسی اجنبی کے دیار میں
کوئی دُکھ مِلا کسی موڑ پہ، کوئی غم مِلا کسی چوک میں
کسی راہگزر کے سکُوت میں کوئی درد آ کے ڈرا گیا
کبھی چل پڑا، کبھی رُک گیا، کسی کشمکش کے غبار میں
مجھے کیا مِلا تیرے پیار میں
میں گِرہ میں باندھ کے حادثات
کہیں گم ہوا تیری کھوج میں
شفیق احمد
No comments:
Post a Comment