Wednesday, 5 May 2021

پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیں

 پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیں

یا میرے زخم پہ نشتر چلانے آئے ہیں

ہمارے بانکپن کی کچھ تو داد دے قاتل

کس اطمینان سے ہم سر کٹانے آئے ہیں

مزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھا

سو دل کو مار کے ہم مسکرانے آئے ہیں

الٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنا

نئی دوا ہے اِدھر آزمانے آئے ہیں

بس ایک وقتِ ملاقات ہم نے مانگا تھا

ہزار ان کے لبوں پر بہانے آئے ہیں

ہمیں پتہ ہے کہ عمران کہہ نہیں سکتے

بڑے وثوق سے لیکن سُنانے آئے ہیں


علی عمران

No comments:

Post a Comment