پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیں
یا میرے زخم پہ نشتر چلانے آئے ہیں
ہمارے بانکپن کی کچھ تو داد دے قاتل
کس اطمینان سے ہم سر کٹانے آئے ہیں
مزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھا
سو دل کو مار کے ہم مسکرانے آئے ہیں
الٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنا
نئی دوا ہے اِدھر آزمانے آئے ہیں
بس ایک وقتِ ملاقات ہم نے مانگا تھا
ہزار ان کے لبوں پر بہانے آئے ہیں
ہمیں پتہ ہے کہ عمران کہہ نہیں سکتے
بڑے وثوق سے لیکن سُنانے آئے ہیں
علی عمران
No comments:
Post a Comment