آنکھ سے اشک بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں ترا سوگ مناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
وصل کے خواب سجاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں تِرا ہجر نبھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
پورے بنتے ہی نہیں مجھ سے خد و خال تِرے
صرف رخسار بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
تم نہیں ہو تو مِری آس کے پر جلتے ہیں
اور میں آگ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
زندگی تجھ سے محبت ہے تو یہ اپنی جگہ
میں تِرا بوجھ اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں تِری یاد کے ویرانے میں جب کھو جاؤں
تجھ کو آواز لگاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
راس آئی نہ مجھے دشت کی دنیا بھی قیس
میں یہاں خاک اڑاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
جمیل احمد قیس
No comments:
Post a Comment