نہیں بحث کہ ہمیں سب نہیں مِلا مُرشد
مگر یہ دکھ یہ ہمیں کب نہیں ملا مرشد
یہ پانچ وقت جو مسجد کی سمت جاتے ہیں
تو ایک بار بھی کیا رب نہیں ملا مرشد؟
پھر ایک روز کہیں خود کو کھو دیا ہم نے
وہ ایک شخص ہمیں جب نہیں ملا مرشد
یہ سوگ میں ہے پرندہ جو اڑ نہیں رہا ہے
یا پھر اڑاں کا اسے ڈھب نہیں ملا مرشد
یہ زیست کٹ گئی تُو ہاتھ آ گیا بھی تو کیا
کہ جب طلب تھی تیری تب نہیں ملا مرشد
علی بیراگ
No comments:
Post a Comment