یوں رہی ہوں میں عمر بھر تنہا
جس طرح دشت میں شجر تنہا
راز رستوں کے کون بتلاتا
میں نے کاٹا ہے ہر سفر تنہا
یا الٰہی! کرم کہ خوابوں میں
اس کو دیکھا ہے بام پر تنہا
وہ یہاں آ کے پھر چلا بھی گیا
رہ گیا کوئی بے خبر تنہا
سارے جگ سے فریب کھا کھا کر
لوٹ آئی ہوں اپنے گھر تنہا
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment