Tuesday, 12 October 2021

یوں رہی ہوں میں عمر بھر تنہا

 یوں رہی ہوں میں عمر بھر تنہا

جس طرح دشت میں شجر تنہا

راز رستوں کے کون بتلاتا

میں نے کاٹا ہے ہر سفر تنہا

یا الٰہی! کرم کہ خوابوں میں

اس کو دیکھا ہے بام پر تنہا

وہ یہاں آ کے پھر چلا بھی گیا

رہ گیا کوئی بے خبر تنہا

سارے جگ سے فریب کھا کھا کر

لوٹ آئی ہوں اپنے گھر تنہا


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment