حیرت کو توڑ حال سے، حالت پہ رقص کر
وحدت میں خود کو جھونک کے کثرت پہ رقص کر
اس مرگ بر مراد پہ یوں اشک مت بہا
عارف کا یہ وصال ہے میت پہ رقص کر
باہر نکال روح کو زندانِ خاک سے
پرزے اڑا وجود کے، تربت پہ رقص کر
منزل مقام کچھ نہیں، خود لا مکان بن
باہُو کے میکدے سے پی، وسعت پہ رقص کر
یہ بے پناہ غم تجھے رب سے ملائے گا
چل اٹھ اور اپنے درد کی شدّت پہ رقص کر
آفتاب باسم
No comments:
Post a Comment