Tuesday, 12 October 2021

حیرت کو توڑ حال سے حالت پہ رقص کر

 حیرت کو توڑ حال سے، حالت پہ رقص کر

وحدت میں خود کو جھونک کے کثرت پہ رقص کر

اس مرگ بر مراد پہ یوں اشک مت بہا

عارف کا یہ وصال ہے میت پہ رقص کر

باہر نکال روح کو زندانِ خاک سے

پرزے اڑا وجود کے، تربت پہ رقص کر

منزل مقام کچھ نہیں، خود لا مکان بن

باہُو کے میکدے سے پی، وسعت پہ رقص کر

یہ بے پناہ غم تجھے رب سے ملائے گا

چل اٹھ اور اپنے درد کی شدّت پہ رقص کر


آفتاب باسم

No comments:

Post a Comment