Tuesday, 12 October 2021

کیسے کہہ دوں کہ اذیت کے لیے ہوتی ہے

 کیسے کہہ دوں کہ اذیت کے لیے ہوتی ہے

خلِشِ قلب تو راحت کے لیے ہوتی ہے

پہلے ہوتی تھی محبت کی ضرورت سب کو

اب محبت بھی ضرورت کے لیے ہوتی ہے

اس کی تضحیک نہ کی جائے کسی صورت بھی

یار! عورت تو محبت کے لیے ہوتی ہے

دوسرے عشق کو پہلا ہی سمجھ کر کرنا

پہلی چاہت تو نصیحت کے لیے ہوتی ہے


منیر انجم

No comments:

Post a Comment