Wednesday, 13 October 2021

کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں

 کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں

ہر نئی بات میں شعروں میں سنا دیتا ہوں

دل کو دیتا ہوں میں ہر روز نئے خواب کئی

زمیں بنجر میں کئی بیج گرا دیتا ہوں

میرے ہرجائی کی ہی دین ہیں آنسو میرے

آنکھ نم ہو تو اسے دل سے دعا دیتا ہوں

بات کرتا ہے کوئی یار جدائی کی تو میں

طاق پر رکھے ہوئے دیپ بجھا دیتا ہوں

اتنا بدلا ہوں تِرے بعد مِرے یار کہ اب

دل کی ہر بات یونہی ہنس کے اڑا دیتا ہوں

قیس آنگن میں لگے پیڑ سے قربت ہے مری

شعر اس کو بھی میں  دو چار سنا دیتا ہوں


جمیل احمد قیس

No comments:

Post a Comment