کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں
ہر نئی بات میں شعروں میں سنا دیتا ہوں
دل کو دیتا ہوں میں ہر روز نئے خواب کئی
زمیں بنجر میں کئی بیج گرا دیتا ہوں
میرے ہرجائی کی ہی دین ہیں آنسو میرے
آنکھ نم ہو تو اسے دل سے دعا دیتا ہوں
بات کرتا ہے کوئی یار جدائی کی تو میں
طاق پر رکھے ہوئے دیپ بجھا دیتا ہوں
اتنا بدلا ہوں تِرے بعد مِرے یار کہ اب
دل کی ہر بات یونہی ہنس کے اڑا دیتا ہوں
قیس آنگن میں لگے پیڑ سے قربت ہے مری
شعر اس کو بھی میں دو چار سنا دیتا ہوں
جمیل احمد قیس
No comments:
Post a Comment