سخن کی نوک پلک کو بڑا سنوارا گیا
مگر وہ جھُوٹ حلق سے نہیں اُتارا گیا
پھر ایک قتلِ عمد کی ادا ہوئی دیّت
پھر ایک شخص گلی میں نِہتا مارا گیا
بِکے ہووؤں نے بھی کچھ داد تو سمیٹنی تھی
سو عین آخری گیندوں پہ جا کے ہارا گیا
مغالطہ تھا مگر تھا بڑا حسین وہ پل
تمام عُمر جسے کھینچ کر گزارا گیا
وہ اک نشست بڑی دور تک تلاشی گئی
وہ ایک نام بڑی دیر تک پکارا گیا
احمد شہباز
No comments:
Post a Comment