کیا یہ سچ ہے
وہ کہتا ہے
تمہاری اس لیے تعریف ہوتی ہے
کہ تم عورت ہو
تھوڑی خوبصورت ہو
بڑے ڈالر کماتی ہو
وگرنہ
تم سے بہتر سینکڑوں رُلتی ہیں
بِکتی ہیں
کوئی پرواہ نہیں کرتا
ہم اپنی جاں جلاتے ہیں
تو خونِ دل سے لکھتے ہیں
ہمیں تو کوئی لائق تک نہیں کرتا
ہمیں کوئی نہیں پڑھتا
تمہاری فیس بُک پہ ٹھرکیوں کی دوڑ لگتی ہے
ہماری جان جلتی ہے
اگرچہ وہ بہت ہی تلخ لہجے میں جتاتا ہے
مجھے میرے لکھے ہر لفظ پہ مشکوک کرنے کے لیے
سچ مچ وہ اپنا خوں جلاتا ہے
یہ میری ہی نہیں ہر اک ادیبہ شاعرہ کی جنگ ہے
جو ہم روزانہ جم کے لڑتے ہیں
میرے اندر یہ جرأت ہے
کہ سینہ ٹھوک کر اس کے
سبھی تیروں سے اس کو چھید کے رکھ دوں
مگر پھر سوچتی ہوں
یہ جو بے چارے بہت استاد بنتے ہیں
انہیں پھر کون پوچھے گا
ہونہہ
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment