Wednesday, 15 December 2021

اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا

 اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا

یہاں کے دشت مزاجوں کا حوصلہ رہے گا

ہم ایسے ایسے زمانوں سے ہو کے آئے ہیں

کہ خواب والوں کو خوابوں سے اک گِلہ رہے گا

میں چاہتا ہوں محبت میں زخم آئے مجھے

میں بچ گیا تو محبت میں کیا مزہ رہے گا

گِلے کرو کہ محبت میں جان پڑ جائے

گَلے لگو کہ یوں رونے سے سلسلہ رہے گا


عامر لیاقت

No comments:

Post a Comment