اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا
یہاں کے دشت مزاجوں کا حوصلہ رہے گا
ہم ایسے ایسے زمانوں سے ہو کے آئے ہیں
کہ خواب والوں کو خوابوں سے اک گِلہ رہے گا
میں چاہتا ہوں محبت میں زخم آئے مجھے
میں بچ گیا تو محبت میں کیا مزہ رہے گا
گِلے کرو کہ محبت میں جان پڑ جائے
گَلے لگو کہ یوں رونے سے سلسلہ رہے گا
عامر لیاقت
No comments:
Post a Comment